Thursday, December 1, 2016

ہم نے بارڈر پر کیا کیا؟؟


pok-main

        26 November 2016
شیخ عمر نزیر لیسواہ نیلم ویلی
یہ 2003 کی بات ہے کہ مشرف کا مارشل لا کا دور تھا انڈیا کے ساتھ جنگ بندی معائدہ طےپا گیا اس طرح سرحد پر کشیدگی ختم ہوئی اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا 2003 کے بعد نیلم ویلی کے لوگوں کی پرشانیوں میں کافی حد تک کمی ہوگئی 2005 کے زلزلے کے بعد نیلم ویلی روڈ مکمل تباہ ہوگئی تھی جس کو چائنہ کی ایک کمپنی نے ٹھیکے پر دوبارہ بنایا اور شاردہ تک اچھی حالت میں روڈ تیار ہوگئی نیلم ویلی خوبصورتی کے لحاظ سے پاکستان کی چند ایک جگہوں میں شمار ہوتا ہے روڈ کی اچھی حالت کو دیکھتے ہی سیاحوں نے نیلم کا سفر شروع کر دیا یہ تعداد ہزاروں سے شروع ہوئی اور سالانہ آضافے کے ساتھ لاکھوں میں پہنچ گئی یہاں تک کے اس سال عید کے موقعہ پر صرف عید کے پہلے 3 دن 40،000 گھاڑیاں ویلی میں داخل ہوگئی تھی اس صورتحال کی پیش نظر کاروباری خضرات نے اپنا سرمایا لگایا اور نیلم میں گیسٹ ہاوسز کی بھر مار ہوگئی
keran-village-neelam-valley
دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کا علاقہ جس کی چوٹیوں پر انڈین آرمی بیٹھے اس سب کا تماشہ دیکھ رھی تھی وہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنے میں مصروف تھی اس کے کیلے ان نے پوری بارڈر پر 16 فٹ اونچی اور 5 فٹ چوڑی باڑ لگائی اور اس میں کرنٹ لگایا اس کے ساتھ پوری بارڈر پر لائٹنگ کر دی
نئے بنکر تعمیر کیے اور اگے کی صفوں میں اپنی تنصیبات لگائی یہاں تک کہ پوری بارڈر پر دیوار چین طرظ کی دیوار تعمیر کرنے کی تیاری شروع کر دی
دوسری طرف ہم اس سب سے بےؑ غم ہوکر اس خواب میں رھے کہ اب انڈیا کچھ نہیں کرے گا وہ معائدے کی پاسداری کرے گا ہم اپنی اور کمزوریاں ان کے سامنے لاتے گئے ہم نے ساری توجہ میں روڈ پر رکھی اور بائی پاس کی روڈز پر کوئی توجہ نی دی مجھے یاد ہے اج سے 2 سال پہلے نشنل اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں یہ کہا گیا کہ لیسواہ بائی پاس کیلے 1 کروڑ روپیہ رکھا گیا ہے لیکن 2 سال بعد بھی اس کا کام شروع نہ ہو سکا جلاں بائی پاس کو تو لوگ بھول ہی گئے تھے جلکھڈ بائی پاس کا تو نام تک یاد نہ رھا ہمارا سارا زور نیلم میں گیسٹ ہاوس بنانے پر رھا  جبکہ انڈیا اپنا دفاع مضبوط کرتا رھا
اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب انڈیا نے میں روڈ جوکہ اس کے پسٹل کے نشانے پر ہے بند کر دی ہمارے بائی پاس سفر کے قابل نہیں  لوگ انتہائی تکلیف میں ہیں اوپر والے اوپر بند نیچے والے نیچےہمارے اس انتظام سے ہمارے لوگ بہت خطرناک صورتحال میں اگئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ بائی پاس کو روڈز کو فورا تعمیر کیا جائے اور اپنے دفاع کو مضبوط کرتے ہوئے نیلم کے لوگوں کو اسانی فراہم کی جائے اور انڈیا کو نیلم کی چوٹیوں سے ہٹایا جائے ۔

No comments:

Post a Comment