تِیر والا دل
شاردہ کی طرف بس آدھا گھنٹہ رکنی تھی...سارے مسافر نیچے اُتر گئے، میں بھی اُتر گئی.ایک درخت کے پاس جا پہنچی، پاس سے ایک ٹورسٹ لڑکاlays Cips کا خالی ریپرپھینکتا ہوا گزرا... جانے کہاں کہاں سے آجاتے ہیں نالائق(میرےقریب سے آواز آئی میں نے مڑ کر درخت کو دیکھا)... کیا یہ آپ ہیں؟... ہاں ہم ہئی ہیں(درخت نے جواب دیا)... آپ کچھ ناراض دکھائی دے رہے ہیں... ناراض ہونا توبنتاہے نابتاؤ ذرا وہ موا یہاں کچرا پھینک کر چلتا بنا، جانے کبو سدھرے گی یہ قوم...یہ تو بالکل ٹھیک کہا آپ نے (میں نے ہاں میں ہاں ملائی)... خیر کدھر سے آوت ہو تم؟...کراچی سے... اوہوبڑی دور سے آوت ہو، ویسے ہمو بھی بڑی دور سے آوت ہیں...کدھر سے؟... بھوپال سے... بھوپال؟مگر یہ تو انڈیا میں ہے پھر آپ یہاں کیسے؟... بڑی لمبی کہانی ہے بس کیا سناویں تم کا، ہوؤکچھو یوں کہ بھوپال میں اِکو کھوتا تھا انڈین آرمی والے لے آئے اسکو کشمیر مال برداری واسطے، جس دن پہنچا رات کو کھل کےباڈر کراس کر گیا اور ہم ہیاں پیدا ہو گئے... تو وہ تو کھوتا یہاں پہنچا آپ یہاں کیسے پہنچے؟... اوہو بائیلوجی نا پڑھی ہوکا؟... نہیں... تو اب ہم کاپولی نیشین کے طریقے بتاویں تم کا؟...جی کیا مطلب ؟...او ہو، ہوو کچھو یوں کے کھوتا گهاس کھا آیا تھا وہ تو شکر کہ ہم کا نکال باہر کیا اور ہم پیدا ہو گئے ورنہ تو...ارے ارے ایسی باتیں ہر ایک کو نہیں بتاتے (میں نے ٹوکا)... اب تمہوہر کوئی تھوڑت ہو،ہر نئے موسم میں ہیاں منڈلاتی نظر آوت ہو اب تو مقامی لوگ بھی تم کا پہچان لیوت ہیں،پر ایک سمسیا ہے ہم کا... وہ کیا ہے؟... ہم کا اپنے باوا، اماں، چاچا کی بوہت یادآوت ہے،ہم کا چنتا ہووت ہے... جسطرح آپ کو اپنے پیاروں کی یاد آتی ہے اسی طرح یہاں کے لوگ بھی تو بارڈر پار اپنے پیاروں کے لیۓ تڑپتے ہیں... ہاں پر چنتا تو ہم کا کچھو اور ہووت ہے...وہ کیا؟... ہم ہیاں محپھوظ ناہی ہیں...یہاں آپکو کیا خطرہ ہے یہاں کے لوگ تو اچھے ہیں... کھترا ہے ہم کا ذرا دیکھو ہمری پیٹھ پر کا لکھا ہے...(میں نے جھانک کر دیکھا) عبد الله لکھا ہے... اوردیکھو کا لکھا ہے... دل بنا ہے اور نیچےNلکھا ہے... ہاں ساون میں آوت تھے عبد الله بھیا وہ گانا گاوت جاتے "تمرا اور ہمرا نام جنگل کے درختوں پر ابھی لکھا ہوا ہے تم کبھو جا کے مٹا آؤ" اور ہم کا زکهمی کیو جاتے نالائق،... اب کون آوے گا اسکو مٹانے وہان کی N تھوڑی آوے گی... اب تمہوہی ہمرا اکوکام کرو...عبد الله بھیا کو بلا لاؤو بیاں اور کہوو کے یہ داغ اب مٹا ڈالو اب بیاں سرف ایکسل تو کام نہ کرت ہے... جی میں سمجھی نہیں... نہ سمجھوہو تو اٹھائی لیو چقو اور بنائی ڈالو ایک تیر والا دل تمہو بھی...
تحریر : شافعہ خان
نیلم کی بس میں سفر ہورہا ہے سے اقتباس
No comments:
Post a Comment