Thursday, November 15, 2018

زلزال جھیل چکار آزاد کشمیر

یہ بھی ایک جھیل ہے۔
کیا اپنے کبھی اس جھیل کی سیاحت کی ہے ؟
نہیں کی تو آئیں آج اپکو زلزال جھیل کا راستہ بتاتے ہیں اور اس کی چند خصوصیات بھی بتاتے ہیں ۔
یہ جھیل ایک حادثے کی پیداوار ہے اپکو پتہ ہوگا 8 اکتوبر 2005 کو کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک زلزلہ ایا تھا جس نے ایک لاکھ انسانوں کو نگل لیا تھا ۔
اسی زلزلے کے دوران مظفرآباد کے نواحی علاقہ چکار سے متصلہ ایک گاوں لودھی آباد سلائیڈ کر گیا پورا گاوں سلائیڈ کی زد میں اگیا جس کی وجہ سے 1200 نفوس سلائیڈ کے نیچے دب گئے نمںبردار اشرف حسیںن جو گاوں کی معروف شخصیت تھے وہ بھی ان 1200 لوگوں میں شامل تھے
سلائیڈ کی وجہ سے قدرتی نالے کا راستہ بند ہوگیا اور اس کا پانی اس پوری ویلی میں بھر گیا اور اس جھیل کا جنم ہوا۔
چونکہ یہ جھیل زلزلے کی وجہ سے بنی لہزا اسکا نام زلزال جھیل رکھ دیا گیا ۔
جھیل کے آس پاس سرسبز پہاڑ گھنے درخت اور۔ خوبصورت گاوں ہیں جو دعوت نظارہ دیتے ہیں ، اس جھیل کا پانی ہٹیاں کے مقام پر دریائے جہلم میں مل جاتا ہے۔
روٹ/ راستہ
مظفرآباد سے 55 کلومیٹر کی مسافت پر چکار ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے مظفرآباد سے دومیل کے مقام سے سرینگر روڈ پر سفر کریں تو سراں چھٹیاں گاوں سے چکار کا راستہ دائیں جانب پہاڑ کے اوپر بل کھاتی مکمل کارپٹٹڈ روڈ جاتی ہے یہی روڈ گنگا چوٹی بھی جاتی ہے ۔
چکار گاوں پہنچنے کے بعد 15 منٹ کی مسافت پر اپ جھیل پر پہنچ سکتے ہیں ۔ درختوں سے جب آپ کھلی فزا میں نمودار ہوتے ہیں تو اچانک جھیل کا نظارہ اپکی ساری سفری تھکاوٹ دور کردیتا ہے ۔
تقریباً 2.5 گھنٹوں کے سفر سے آپ اس جھیل پر باآسانی پہنچ سکتے ہیں ۔
دوسرا راستہ ضلع باغ کی جانب سے جب آپ گنگا چوٹی پینچتے ہیں تو وہاں سے روڈ چکار کی جانب اتی یے جس پر آپ باآسانی جھیل پر پہنچ سکتے ہیں۔
تیسرا راستہ ضلع ہٹیاں بالا مین بازار سے توڑا پہلے اوپر کی جانب اتا یے نیناں گاوں تک پکی روڈ اتی ہے اس سے اگے پیدل سفر کر کے آپ جھیل کے دھانےتک پہنچ جاتے ہیں ٹریکر حضرات کو یہی راستہ تجویز کروں گا ۔
ہر طرح کی گھاڑی اس جھیل پر آ سکتی ہے ۔چکار میں اپکو ضرورت زندگی کی تمام چیزیں مل جاتی ہیں لیکن جھیل پر سہولیات کا فقدان ہے محکمہ سیاحت اور ٹورازم پر کام کرنے والوں کی عدم توجہی کا شکار یہ جھیل اپنی خوبصورتی کے باوجود کوئی باقاعدہ سیاحتی مقام کا درجہ حاصل نہیں کرسکی ۔
زیادہ تر سیاح اسے دور سے دیکھنے میں ہی عافیت جانتے ہیں جس کی وجہ جھیل کے پاس جانے کا کوئی واضع ٹریک اور راستوں کی کمی ہے۔
اس جھیل پر لوکلز نے بھی زیادہ توجہ نہیں دی ایک عرصے تک جھیل۔پر جاکر سیاحتی سرگرمیوں کرنے کو گناہ سمجھا جاتا رہا یے اور اسکو عبرت کا نشان سمجھا جاتا رہا ہے کیوں کہ یہ زلزلہ کی وجہ سے بنی اور 1200 نفوس اس کے نیچے دب گئے ۔
یہ جھیل اور اس طرح کے بے شمار سیاحتی مقامات جو متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہیں ان پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
شیخ عمر نزیر/ ٹور بلاگر ، ٹور آپریٹرز
اس جھیل کی جی پی ایس لوکیشن نیچے دی گئی ہے اپ اسے دیکھ سکتے ہیں

34.1338475792381 °N, 
73.7196779251099 °E

No comments:

Post a Comment